وزیر اعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ہماری خودمختاری اور سالمیت کی محافظ ہیں۔ پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعے کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ لیکن بھارت نے جارحیت دکھائی جس کا اسے نہ صرف منہ توڑ جواب دیا بلکہ بازی ہی پلٹ دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز میدان جنگ تک محدود نہیں۔ حکومت اور عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جبکہ پاک فضائیہ نے بھارت میں 7 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایئر چیف نے بھارتی طیارے گرا کراپنی پیشہ ورانہ مہارت ثابت کی۔ اور آرمی چیف نے ثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل کے عہدے کے صحیح حقدار ہیں۔ بھارت کو جنگ کے میدان اور سفارتی محاذ دونوں پر شکست کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 مئی کی صبح جب آرمی چیف کا فون آیا تو وہ پراعتماد اور پرسکون تھے۔ بھارت نے آئندہ بھی کوئی مہم جوئی کی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ اور بھارت کو سندھ طاس معاہدہ ہرگز معطل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بھارت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرے۔ اور پاکستان نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے جنگ بندی کی پیشکش قبول کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کامیاب مذاکرات سے معیشت کو استحکام ملا۔ اور ریونیو کلیکشن گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ رہی ہے۔ جبکہ ہماری حکومت میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے اور ہمارا عزم بلند ہے۔ معیشت کے استحکام سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔ اور حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔ اسمگلنگ پاکستانی معیشت کے لیے کینسر جیسا مسئلہ بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وجہ سے گزشتہ ایک سال میں اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی۔ جبکہ کراچی پورٹ پر فیس لیس کسٹم اسیسٹمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور سعودی عرب پاکستان کے بہترین اور قابل اعتماد دوست ہیں۔ دہشتگردی اس ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اور 90 ہزار پاکستانی دہشتگردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ 2018 میں دہشتگردی نے دوبارہ سراٹھایا جسے شکست دی جاچکی تھی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آزمائش کی ہر گھڑی میں چین پاکستان کے کام آنے والا دوست ملک ہے۔ جبکہ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی چوری کا خاتمہ کیا۔ ہمیں اپنے قدرتی اور انسانی وسائل کو اچھے طریقے سے استعمال کرنا ہو گا۔ جبکہ جدت کو اپناتے ہوئے کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کا اجرا کر رہے ہیں۔









