رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت 22 اپریل سے پہلے کی صورتحال پر واپس آرہے ہیں،پاک بھارت کشیدگی کی شدت کم ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے متحرک ہونے سے پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا تھا۔
جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ کرائسز مینجمنٹ طریقہ کار کی عدم موجودگی میں دنیاکیلئے مداخلت کرنامشکل تھا، پہلے کشیدگی متنازعہ علاقے تک محدود رہتی تھی،اس بار پاک بھارت کشیدگی بین الاقوامی سرحد تک پہنچ گئی تھی۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں مستقبل میں بھی کشیدگی ہوسکتی ہے، بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمہ دارانہ قدم ہے، یہ فیصلہ پہلگام حملے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر بغیر کسی ثبوت کے کیا گیا۔
بھارت نے بغیر ثبوت کے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کیا،پاکستان زرعی ملک ہے،معاہدے کی معطلی ہمارے وجود کیلئے خطرہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب سے انتہائی غیر محتاط اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ پاک بھارت سرحد پرفوجی تعدادمیں کمی لارہے ہیں،حالیہ جھڑپوں میں میزائل،ڈرون اورلڑاکاطیاروں کا استعمال کیاگیا۔









