اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ 29 فیصد بڑھی ہے، آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے، ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بلند ترین سطح پر ہیں ،اسٹاک ایکسچینج نئی حدیں عبور کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اب معاشی استحکام آئے گا، پرامید ہوں کہ ایکسچینج ریٹ اور پالیسی ریٹ ہماری توقع کے مطابق رہیں گے، نجی شعبے کو ملک کو لیڈ کرنا ہوگا، ملک کی بہتری کیلئے بیرون ملک سے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات لا رہے ہیں، رائٹ سائزنگ پر عمل کر رہے ہیں، 6 وزارتیں ختم کرنے کے فیصلے پر اب عملدرآمد ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، مختلف وزارتوں میں ڈیڑھ لاکھ پوسٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ سول سروس ایکٹ میں ترمیم ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس محصولات میں اضافہ ناگزیر ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں فائلرز کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے، رواں سال اب تک 7 لاکھ 23 ہزار نئے فائلرز آ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نان فائلرز گاڑیاں اور جائیداد نہیں خرید سکیں گے،3 لاکھ ہول سیلرز ہیں، 25 فیصد سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، ڈیٹا ہمارے پاس ہمیشہ سے تھا، دیکھیں گے فائلرز نے کیا ظاہر کیا اور اصل اثاثے کیا ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، نان رجسٹریشن میں یوٹیلیٹیز بلاک کر دیں گے، پروڈکشن یونٹس صرف رجسٹرڈ ہول سیلرز کو مال بیچ سکیں گے۔









