سنٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں 23 خواتین پولیس اہلکاروں کی بھرتیاں کی گئی ہیں، ضلع خیبر 6، مہمند2، باجوڑ5 ،اورکزئی 1،شمالی و جنوبی وزیرستان4،4 خواتین پولیس اہلکاروں کو ایٹا کے ذریعے بھرتی کیا گیا، لیویز، خاصہ دار فورس سے 34 خواتین اہلکاروں کو پہلے ہی پولیس میں ضم کیا جاچکا ہے۔
ایف آرحسن خیل،بیٹنی،جنڈولا،درہ زندہ میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں، سی پی او کے مطابق ضلع کرم میں سب سے زیادہ 12،شمالی وزیرستان11،جنوبی وزیرستان میں 5، ایف آر بنوں میں 5،ضلع خیبر9،مہمند 7،باجوڑ 5 اور ایف آر درہ آدم خیل میں ایک خاتون پولیس اہلکار تعینات ہے۔
قبائلی اضلاع و ایف آرز میں مجموعی طور 57 خواتین پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شہباز عارف کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں کی بھرتی کےلئے دس فیصد کوٹہ مختص ہے، خواتین پولیس اہلکاروں کی بھرتی میں قواعد و ضوابط میں نرمی کی جاتی ہے۔
ضلع خیبر میں پہلی بار خاتون پولیس اہلکار مہک پرویز مسیح کو بھی ایڈیشنل ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل تعینات کیا گیا ہے۔









