ہم نیوز کے پروگرام ’ فیصلہ آپ کا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی پی ٹی آئی سے اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی لے لیں تو اجلاس دوبارہ بلایا جاسکتا ہے، ضرورت ہو تو اجلاس ہر ماہ بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی ممکن نہیں، اگر وہ چاہتے ہیں تو عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں۔
گزشتہ روز بلاول بھٹو نے گورنر ہاؤس لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بار پھر قومی سلامتی پر اجلاس بلائیں، حکومت سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی امور پر یکجا کرے، ملکی مفاد میں اجتماعی فیصلے لینا ہوں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن وامان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، اپوزیشن ذاتی مفادات کے بجائے عوامی ایشو پر سیاست کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے قومی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کی، اپوزیشن پارٹی سے اپیل ہے کہ لیڈر کی رہائی کے علاوہ بھی مسائل پر توجہ دے۔
بلاول نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے بین الاقوامی طاقتیں ہوں گی، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے، ملکی سیاست میں پیپلزپارٹی کا اہم کردار ہے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے کئی مسائل ہیں ان میں ایک دہشت گردی اور معاشی بحران ہے ، عوام غربت اور بیروزگاری کا مقابلہ کررہے ہیں،عوام کے مسائل کا حل ترجیح ہونی چاہیے، قومی ایشو پر اتفاق رائے پیدا کرنا ناگزیز ہے۔









