وزارت داخلہ نے پچھلے سال 46465 لائسنس جاری کیے، آڈٹ جنرل کی خصوصی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان لائسنسوں کے بدلےنادرا میں بیالیس کروڑ اور تائیس لاکھ فیس اکٹھی کی گئی۔
دوہزار اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ لاپتہ ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لائسنس کن کو جاری کئے گئے تھے، آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی خزانے سے لاپتہ ہے۔
وزارت داخلہ نے لاپتہ لائسنس کا ریکارڈ پیش نہیں کیا، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پندرہ ہزار آٹھ سو نو ممنوعہ لائسنس جاری کئیے گئے،تیس ہزار چھ سو چھپن غیر ممنوعہ لائسنس جاری کیے گئے۔
نو سو اسلحہ لائسنس ریٹائرڈ فوجیوں کو جاری کیے گئے ، تیرہ سو بہتر اسلحہ لائسنس مختلف اداروں کو جاری کیے گئے، اٹھائیس ہزار تین سو بتیس اسلحہ لائسنس کی تجدید کرائی گئی۔
انکشاف ہوا ہے کہ سترہ ہزار سات سو سنتالیس اسلحہ خرید اور اندراج کے کیس مکمل کئے گئے تھے، وزارت داخلہ نے اس معاملے پر کوئی جواب دینے سے انکار کیا ہے۔











