قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق وزیردفاع بات کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے بات نہیں کرنے دی۔
انہوں نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن کیسے کیا جائے گا؟ اس پر بحث کریں گے اور ہم یہاں (ایوان) میں قومی سلامتی کمیٹی کو بلائیں گے، وزیراعظم بھی اجلاس میں بیٹھیں گے۔
اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، کچھ ایشوز بے ضرر ہوتے ہیں، اس سے آپ کی اور ہماری سیاست کو نقصان نہیں، عزم استحکام پر وزیر دفاع بات کررہے تھے، لیکن آپ نے ایک لفظ نہیں سنا۔
اس موقع پر وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ہاؤس میں طالبان کے حق میں نعرے لگ رہے ہیں، دہشت گردی کی لہر کے باعث عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پیش آئی۔ اس کی منظوری کابینہ اور پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کو واپس لائے، گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تعریفیں کس نے کیں؟۔ سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔









