0

جو جج سینئر ہوگا وہی آئینی بینچ کا سربراہ ہوگا، سپریم کورٹ میں عدالتی معاون

 بینچز اختیارات کیس کو ڈی لسٹ کر نے پر توہین عدالت کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا۔

شوکاز نوٹس کے جواب میں ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی آرڈر پر بنچ بنانے کے معاملہ پر نوٹ بنا کر پریکٹس پروسیجر کمیٹی کو بھجوادیا تھا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت شوکاز نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا جوڈیشل آرڈر کو انتظامی سائیڈ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا؟ جواب میں حامد خان نے کہا کہ انتظامی آرڈر سے عدالتی حکم نامہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، حامد خان صاحب آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بنچز تشکیل جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیئے گئے ہیں۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل آرٹیکل 175 کے تحت ہوئی ہے،جوڈیشل پاور پوری سپریم کورٹ کو تفویض کی گئی ہے، کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرے تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں بنچ عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ حامد خان صاحب آپ کے ذہن میں کوئی ایک ایسی مثال ہو؟ جس پر عدالتی معاون حامد خان نے جواب دیا کہ ایسا کہیں نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ رولز 1980 کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا کمیٹی بنائے گی؟ کیا جوڈیشل آرڈر کے ذریعے فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جا سکتا ہے۔

حامد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریگولر ججز کمیٹی کے ایکٹ کا سیکشن 2اے آرٹیکل 191 اے سے ہم آہنگ نہیں، پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے کم نہیں کر سکتی، میں آرٹیکل 191 اے کی مثال دینا چاہتا ہوں۔ اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس کا اختیار موجودہ کیس سے الگ ہے، یہ سوالات 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق ہیں۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191 اے میں آئینی بنچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں ہے، کم از کم پانچ ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتحال میں تین آئینی بنچز بن سکتے ہیں جو جج سینئر ہوگا وہی آئینی بینچ کا سربراہ ہوگا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔ اس پر عدالتی معاون حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply