0

خواتین کے کپڑوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا

خواتین کے ملبوسات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی پریشانی کے بعد یہ معاملہ بالآخر قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آ گیا۔

ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ برینڈز کے نام پر مقامی ٹیکسٹائل مالکان نے اپنی مرضی سے نرخ بڑھا دیے ہیں جس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لیڈیز سوٹ چند ماہ قبل 7 سے 8 ہزارروپے میں دستیاب تھا آج وہی ملبوسات 20 ہزار روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ “جو گھر سے اٹھتا ہے، وہ کپڑوں کا برینڈ بنا کر مارکیٹ میں آ جاتا ہے۔”

پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار بھٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوکل مارکیٹ اورریٹیل سیکٹر پرحکومت کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہے، قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ توانائی یعنی بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہرکی کہ کپڑوں جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، اور حکومت کو اس مسئلے پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply