ملک بھر میں گندم اورمیدے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود بیکری مصنوعات اور روزمرہ اشیائے خورونوش جیسے نان، روٹی، ڈبل روٹی، رس، کیک، بسکٹ، مٹھائیاں اب بھی پرانی قیمتوں پرفروخت ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 50 کلو میدے کی بوری جو پہلے 7 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی تھی اب اس کی قیمت 3500 روپے تک آ چکی ہے مگر اس کمی کے اثرات صارفین تک منتقل نہ ہو سکے۔
بیکری مالکان نے نرخ کم کرنے سے انکارکر دیا ہے جس سے عوام کی جیب پر بدستور اضافی بوجھ برقرار ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ بیکری مالکان منافع خوری میں مصروف ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اورپرائس کنٹرول کمیٹیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب پرائس کنٹرول لسٹ میں ڈبل روٹی اوردیگربیکری آئٹمز شامل نہ ہونے کے باعث ان پرکوئی حکومتی کنٹرول لاگو نہیں ہورہا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیکری مصنوعات کو بھی پرائس کنٹرول نظام میں شامل کیا جائے اورنرخوں میں فوری کمی لا کرغریب عوام کوحقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔









