میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کل رات تک کیا جائےگا،اجازت کے بغیر اسلام آباد میں جلسے و جلوس کی اجازت نہیں دے سکتے۔
پوری ٹیم اپنے انتظامات پورے کرے گی،پنجاب پولیس، رینجرز ایف سی سب مل کر فرائض انجام دیں گے،انہوں نے واضح کیا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے،مذاکرات دھمکی سے نہیں ہوتے ،اس حق میں ہوں کہ بیٹھ کر بات چیت ہونی چاہیے۔
یہ کوئی صورت نہیں کہ دھمکیاں دیں اور کہیں بیٹھ کر بات کریں ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آئی جی سے رابطہ رہتا ہے ،کرم واقعے میں 38افراد جاں بحق ہوئے ہیں،خیبرپختونخوا حکومت سے امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔
خیبرپختونخوا ملک کا اہم صوبہ ہےجہاں ضرورت ہوگی مدد کریں گے،ہم مذاکرات کر کب رہےہیں ؟ڈیڈ لائن تب ہوتی ہے جب مذاکرات ہو رہے ہوتے ہیں ،افغان شہری پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
آ کر ہمارے لوگوں پر ڈنڈے برسائیں ، دھمکیاں دیں پھر کہیں مذاکرات ہوں ،یہ نہیں ہو گا ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بیرسٹرگوہر بانی پی ٹی آئی سے ملے تھے،اگربانی پی ٹی آئی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں۔
ہمارا مقصد ہے کہ ریڈ زون ،ڈی چوک کو محفوظ بنائیں ،بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کااختیار میرے پاس نہیں،مقدمات کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے ۔
24نومبر کو بیلاروس کا وفد اسلام آباد آرہا ہے،خاص دنوں میں ہی اسلام آباد میں کیوں احتجاج کیا جاتا ہے؟ہم نے ان کو تحریر میں چیزیں بھیج دی ہیں،اپنے صوبے میں جو مرضی کریں، اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے۔









