0

فیض حمید کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ فوج کے معاملات میں مداخلت ہے، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کے فیض حمید کے ٹرائل اوپن کورٹ سے متعلق ریمارکس پر ردعمل دے دیا۔ 

عطا تارڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کرنا فوج کے معاملات میں مداخلت ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ اپنے بیانات سے اس معاملہ کو متنازعہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے دفاع کے بجائے، 190 ملین پاؤنڈ کیس کا جواب دیں، بانی پی ٹی آئی کے ایسے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شدید پریشانی اور تذبذب کا شکار ہیں اور ان کا موجودہ بیان ثابت کر تا ہے کہ فیض حمید واقع ہی ان کا اثاثہ تھے۔

بانی پی ٹی آئی کبھی لیفٹیننٹ جنرل(ر)فیض حمید کو اثاثہ، کبھی ہیرو اور کبھی زیرو کہتے ہیں، لگتا ہے سابق چیئرمین پی ٹی آئی ذہنی طور پر کافی پریشانی کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی لوگوں کو استعمال کر کے پھینکنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو محسن کشی میں مہارت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ یاد رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا اوپن ٹرائل کیاجائے اور اوپن ٹرائل میں میڈیا کو کوریج کی رسائی دی جائے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اوپن ٹرائل سے ملک کا فائدہ ہوگا اور پاکستان ترقی کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply