کراچی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل خواتین سے وابستہ ہے،کوئی بھی معیشت اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی جب تک وہ خواتین کی قابلیت، قیادت اور حوصلے کو مکمل طور پر شامل نہ کرے۔
پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے سی ای او نادر گل بریچ نے کہا کہ معاشی خودمختاری کی بنیاد نچلی سطح سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارا مشن یہی ہے کہ ہم کمیونٹی کی سطح پر خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں تاکہ وہ ترقی کے سفر میں محض شامل ہی نہ ہوں بلکہ قائدانہ کردار ادا کریں۔
صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش نے زراعت کے شعبے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انہیں جدید وسائل، حقوق اور پہچان دیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے موسم اور معیشت میں قیادت کر سکیں۔ہمیں نمائشی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ حقیقی شمولیت اس وقت ہوتی ہے جب خواتین ہر پالیسی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے عمل کا حصہ بنیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر تنزیلہ امِ حبیبہ نے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پالیسی کی شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ خواتین کی بااختیاری اب ایک الگ ایجنڈا نہیں رہی، یہ ہر شعبے میں ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔
شرکاء نے خواتین کودرپیش رکاوٹوں پر سیر حاصل گفتگو اور ان کے حل تجویز کیے، جن میں صنف پر مبنی مالی خدمات، موسمیاتی ہوشیاری پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل شمولیت، قیادت کی ترقی، اور بغیر معاوضہ گھریلو کام کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔
اس موقع پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا، جو سرکاری و نجی شعبے کے شراکت داروں پر مشتمل ہوگا۔ یہ گروپ کامیاب ماڈلز کو وسعت دینے، مالیاتی رسائی کو بڑھانے اور قومی صنفی مساوات کے اہداف سے ہم آہنگ ادارہ جاتی اقدامات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک صوبائی ایکشن فریم ورک تیار کرے گا۔









