ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے وزارت صحت سے سوال کیا کہ کیا حکومت نے کولڈ کریم کے جلد پر مضر اثرات کا نوٹس لیا؟جلد پر کولڈ کریم کے نقصانات پر حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
وزارت صحت نے تحریری جواب دیا کہ کولڈ کریم ڈریپ ایکٹ 2012 کے دائرہ کار میں نہیں آتی،رنگ گورا کرنے والی مصنوعات میں مرکری کی موجودگی پر ملک گیر مہم شروع کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ڈریپ کو کاروباری معاملات میں مداخلت سے روک دیا،پاکستان جنرل کاسمیٹکس ایکٹ 2023 نافذ کر کےمعیار اور فروخت کے اصول طے کر دیے گئے،کاسمیٹکس کے معاملات کی نگرانی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کرے گی۔
وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار ملک نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بہت سی کولڈ کریمیں غیر معیاری ہیں جس کی وجہ سے جلد پر اثرات ہوتے ہیں۔
میڈیکیڈ کریموں سے اتنے اثرات نہیں ہوتے جتنے نان میڈیکیڈ کریموں سے ہیں،کولڈ کریمز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ کار میں نہیں آتیں،اس معاملے کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا ادارہ دیکھتا ہے۔









