سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ خواتین کو عالمی سطح پرفیصلہ سازی کا حق نہیں دیا جاتا، دنیا میں 22 فیصد خواتین ورکنگ ہیں،خواتین گھر کے ساتھ کھیتوں میں بھی کام کررہی ہیں،کہیں جگہوں پر خواتین مردوں سے بھی آگے ہیں ۔
نویں انٹرنیشنل سسٹیننیبل ڈیولپمنٹ گولز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں خواتین واٹر کئیر کا کام کرتی ہیں ،حکومت کا کام ہے کہ خواتین کیلئے سازگار ماحول پیدا کرے۔
پانی کی فراہمی اور سیوریج کا نظام ہماری ترجیح نہیں رہا،عالمی بینک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے آگاہ ہے،کوئی مدد کو نہیں آئے گا ہمیں حق کے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا۔
ہمیں درختوں کی کٹائی کو روکنا ہوگا،ایندھن کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے،وقت کے ساتھ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ،گلوبل وارمنگ کے اثرات سے ہم پاکستان کو نہیں بچا سکتے۔
اسلام آباد ، راولپنڈی میں اس سال بارشیں نہیں ہوئیں ،ہمیں جڑواں شہروں میں پانی کی کمی کا سامنا ہے۔









