ہم نیوز کے پروگرام ” فیصلہ آپ کا ” میں گفتگو کرتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں امن وامان سےمتعلق امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میجورٹی سیاسی جماعتوں نے کہا امن وامان خراب کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے، میٹنگ میں ہر ممبر نے اپنی رائے دی، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے بھی اپنی رائے دی۔
ان کی نالائقی اورنااہلی کی وجہ سے آج صوبے میں دوبارہ بدامنی ہے، یہ اپنے صوبے میں آگ نہیں بجھا سکتے اور اسلام آباد آنا چاہتے ہیں، یہ پہلے مانتے نہیں تھے کہ 9 مئی ہم نے کیا، اب کم از کم مان تو گئے۔
یہ لوگ کہتے تھے کہ فوج ہمارے صوبے سے نکل جائے،اگر فوج صوبے سے نکل جائے تو یہ نالائق ایک دو دن صوبے کو کنٹرول نہیں کرسکتے، فوج کی طرف سے بالکل پیغام ہے کہ دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے، میں نے سوال کیا این ایف سی ایوارڈ میں ملنے والے500ارب کہاں خرچ کئے؟ صوبائی حکو مت نے ان پیسوں کی کرپشن کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائلیں دیکھے جاتے ہیں کہ کتنے پیسے ہیں، خیبر پختونخوا میں کلاس فور کی نوکریاں بھی فروخت کی جارہی ہیں، صوبے میں پرامن احتجاج پرلاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔









