پاکستان کی یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے عظیم قربانیاں دیں۔ آج تحریکِ آزادی کے شہداء اور غازیوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 1947ء کو پاکستان ہندوستان سے الگ ہو کر ایک اسلامی فلاحی مملکت بنا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے معیشت اور دیگر شعبوں میں زوال آتا رہا۔ آج ہمیں اپنے احتساب کی ضرورت ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ کامیابیوں اور ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے، ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ قائدِاعظم کے خواب کی تعبیر ہر صورت پوری ہو۔
انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کے 2 سال بعد آزادی حاصل کی، ہم چین سے آگے تھے لیکن آج پیچھے رہ گئے۔ ہمیں دیانت داری اور غیر جانبداری سے سوچنے کی ضرورت ہے، اب تک جو کچھ ہوتا رہا اس کو دفن کر کے نئے سفر کا آغاز کرنا ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں کمی کے بغیر صنعت ترقی نہیں کر سکتی اور برآمدات نہیں بڑھ سکتیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان عوام کا پورا خیال ہے۔ وعدہ کرتا ہوں کہ مہنگائی، بجلی کی قیمت میں کمی اور پاکستان کی ترقی کے لیے اپنی جان لڑا دوں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند دنوں میں قوم سے خطاب میں 5 سالہ معاشی پروگرام پیش کروں گا۔ دشمن ہر حربہ استعمال کر رہا ہے کہ پاکستان آگے نہ بڑھ سکے، دشمن نے ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے جھوٹ کی بم باری شروع کر رکھی ہے۔









