وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، یکم ستمبر سے 10 دسمبر 2024 کے دوران دارالحکومت میں 5,428 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اسی مدت کے دوران 2023 میں 7,907 واقعات پیش آئے تھے۔
اس کمی کی بنیادی وجہ پولیس کی فعال حکمت عملیوں کو قرار دیا گیا ہے، جن میں گشت میں اضافہ، بہتر نگرانی اور جرائم کی روک تھام کے منصوبے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی سفارتکاروں اور معززین کی سیکورٹی جیسے اہم فرائض کو بھاری ذمہ داریوں کے باوجود، آئی سی ٹی پولیس نے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔
آئی سی ٹی پولیس نے یکم جنوری سے 10 دسمبر 2024 تک 4,000 سے زائد ایونٹس اور احتجاجی مظاہروں کو کامیابی سے سنبھالا۔
ایک مقامی سیکورٹی ماہر نے نوٹ کیا کہ پولیس نے بڑے جرائم سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، لیکن کمیونٹی پولیسنگ پر زیادہ توجہ اور نئی ٹیکنالوجی اپنانے سے جرائم پر مزید قابو پایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، آئی سی ٹی پولیس نے عوامی تحفظ کو بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں جرائم کے ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی، کچی آبادیوں کے سروے اور انٹیلیجنس پر مبنی پولیسنگ کے ذریعے ممکنہ خطرات کا تدارک شامل ہے۔
پولیس نے مشکوک افراد کی نگرانی، پیرول پر موجود قیدیوں کا ڈیٹا پروفائلنگ، اور 24 گھنٹے گشت کے انتظامات بھی کیے ہیں۔
شہر میں ایف-9 پارک کے آس پاس گشت کے لیے ٹریل پٹرول یونٹ اور گھڑسوار پولیس یونٹ تعینات کیے گئے ہی،آئی سی ٹی پولیس نے اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی اقلیتی تحفظ یونٹ (ایم پی یو) بھی قائم کیا ہے۔
مزید برآں، سیف سٹی کیمرے اور سی ایس ڈی ایس سیکورٹی سسٹم پورے شہر میں نگرانی اور مجموعی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔










