ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت کر رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل کی جانب سے دلائل دیے جارہے ہیں۔
وکیل خاور مانیکا کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا ریاست کا سربراہ عوامی نمائندے ہونے کے ناطے عوام کو ہر طرح سے جواب دہ ہوتا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے ٹرائل کورٹ میں جرح کے دوران دیے گئے فیصلوں پر کچھ گزارشات کرنا چاہوں گا۔
وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں دوسرے خاوند کے فوت ہونے کے بعد خاتون کا جائیداد میں حصہ لینے کے حوالے سے ایک ججمنٹ دی گئی۔ اس عدالتی فیصلے کو بطور ریفرنس دینا سمجھ سے بالاتر ہے، اگر جیل میں ان کے مؤکل کو پتا لگے کہ ان کے وکلا نے یہ عدالتی فیصلے دیے، انہیں ہارٹ اٹیک ہو جائے۔
اس پر جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ میں نے وہ عدالتی فیصلہ پڑھ لیا ہے۔ جس پر خاور مانیکا کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے دیے گئے عدالتی فیصلوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو عدالتی فیصلے ریفرنس کے طور پر دیے گئے ان فیصلوں میں اور اس کیس کے گراؤنڈز الگ الگ ہیں۔









