ہم نیوز کے پروگرام ” فیصلہ آپ کا ” میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ کہہ دینا کہ پراسس متنازعہ ہے تو پہلے کیوں بیٹھے؟ علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے کہا ہمیں ٹرانسفر سے کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس سینارٹی کا معاملہ جائےگا تو فیصلہ ہو جائےگا، پارلیمان سپریم ہے اس نے ترمیم کی ہے ، ہر شہری کو آئین و قانون کا پابند ہونا ہے، ججز کی پہچان فیصلوں سے ہونی چاہیے۔
کسی نے ہاتھ سے قلم تو نہیں لیا، خط منظرعام پر پہلے اور جس کو دینا ہوتا ہے وہ بعد میں دیا جاتا ہے، پارلیمان کے وقار کو خراب کرنےمیں پی ٹی آئی سرفہرست ہے، پی ٹی آئی نے آرڈیننسز کی فیکٹری لگائی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پلے کارڈ اور بینرز لانے کی اجازت نہیں ہوتی،آپ تہذیب کے دائرے میں رہ کر اپنی بات کریں، وزیراعظم کے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست دان بیٹھتے ہیں تو سیاسی معاملات پر بات چیت تو ہوتی ہے، سینارٹی کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان نے فائنل رولنگ دینی ہے۔









