0

چیف جسٹس

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا خط ججز آئینی کمیٹی کو بجھوایا ہے، آئینی بینچ نے ہی اس معاملے کو دیکھنا ہے۔

آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے خط بہت آتے ہیں، مجھے وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا خط بھی ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے قائد خزب اختلاف سے بھی بڑی مشکل سے رابطہ کیا، ہم حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے، بانی پی ٹی آئی کا خط آیا ہے،  بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل 184 کی شق تین سے متعلق ہیں، میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں،  بانی پی ٹی آئی کا خط ججز آئینی کمیٹی کو بجھوایا ہے، وہ طے کریں گے، یہ معاملہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت آتا ہے۔

صحافی نے سوال  کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کیلئے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا؟ عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟ چیف جسٹس پاکستان  نے جواب دیا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں، انھیں ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، پرانی چیزیں ہیں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ، ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، ساری تفصیل بتانا ہمارا کام نہیں ، میں نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا۔

جسٹس یحییٰ نے کہا کہ میں نے وفد کو بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں، وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق کے بارے میں ہم جاننا چاہتے ہیں، میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے وفد کو بتایا ہم تجویز دیں گے، ہائیکورٹس میں جلد سماعت کیلئے بنچز وہ بنائیں گے، جو آپ کہہ رہے ہیں وہ دو طرفہ ہونا چاہیے، وفد نے کہا ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تحفظ چاہتے ہیں، میں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ کیلئے آرٹیفشل انٹیلی جنس چاہیے ہو گی۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply