بجٹ دستاویزات کے مطابق فائلر بننے کے لیے ٹیکس گوشوارے کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹ بھی جمع کروانا ہو گی۔ اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے والے ہی کاروباری لین دین کر سکیں گے۔
ویلتھ اسٹیٹمنٹ نہ جمع کروانے والے غیر منقولہ جائیداد کی خریدو فروخت نہیں کر سکیں گے۔ اور بغیر ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے گاڑیوں کی خریداری بھی نہیں ہو سکے گی۔ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرائے بغیر سیکیورٹیز اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکے گی۔
ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع نہ کروانے والوں پر بعض بینک اکاؤنٹس کھولنے پر بھی پابندی ہو گی۔ اور فائلرز کو اپنی مالی حیثیت آمدن تحائف قرضے اور وراثت جیسے مالی ذرائع کے ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
بینکوں کو اکاؤنٹ ہولڈرز کے بارے میں معلومات فراہمی لازمی قرار دینے کے بارے میں قوانین لائے جائیں گے۔ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بیرونی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔









