ہم نیوز کے پروگرام ’’فیصلہ آپ کا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ملاقات کے معاملے پر سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی،علی ظفر جیسے آدمی پر الزام لگایا گیا کہ کسی کا منظور نظر ہے۔
سلمان اکرم راجہ ابتدا میں ہمارے ساتھ بحیثیت پروفیشنل وکیل آئے تھے،جب ان کو قربت ملی تو یہ پارٹی کا حصہ بنے اور ٹکٹ دیا گیا،فیس لینے یا نہ لینے کے حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں۔
معاملات اب تھوڑے سنگین ہوں گے،سلمان اکرم راجہ علیمہ خان کی سفارش پر پارٹی کے سیکریٹر ی جنرل بنے ،جس طرح معاملات چل رہے ہیں اس میں سنجیدگی نہیں۔
علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی کا ابھی تک اعتماد برقرار رکھا ہوا ہے،ان کے خلاف سازشیں ہور ہی ہیں،بانی پی ٹی آئی کے کان بھرے جا رہے ہیں،علی امین گنڈاپور کا مستقبل بھی خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی یہ فیصلہ کیا ہی نہیں کہ بہنیں نہیں جائیں گی تو وکلا ملاقات نہیں کریں گے،
یہ نہیں جاسکے تو ان کو دکھ تھا کہ بیرسٹر گوہر کیوں گئے؟
یہ تمام ایس او پیز میرے اور جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر بنائے تھے،کبھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا ایک کو اجازت نہیں ملی تو باقی بائیکاٹ کریں گے۔









