چمن میں صورتحال تیسرے روز بھی کشیدہ، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ، 8 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 20 افراد زخمی ہو گئے ، زخمیوں کی تعداد 60 ہو گئی۔
سکیورٹی فورسز نے مظاہرے اور ریلیوں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی حکام پر حملہ کرنے پر 45 افراد کو گرفتار کر لیا۔
سرکاری عمارتوں پر حملہ اور تشدد کے سبب کوئٹہ اور چمن کے درمیان مسافر ٹرین سروس معطل رہی۔
چمن میں پاک افغان سرحدی گزرگارہ پر آمدورفت کیلئے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط کیخلاف گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج جاری ہے تاہم دو روز قبل دھرنے کے شرکاء کی جانب سے پولیو مہم میں رکاوٹیں ڈالنے کے بعد مظاہرین اور سکیورٹی اہلکار آمنے سامنے آ گئے۔









