منظوروسان نے پیش کی ہے کہ آئندہ 2 سے اڑھائی ماہ ملکی سیاست کیلئے بہت اہم ہیں ا س دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے ، مجھے اچھے دن آتے نظر نہیں آرہے،مستقبل قریب میں عدلیہ،اداروں اورسیاستدانوں کے درمیان محاذ آرائی بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے دن سیاستدانوں کیلئے اچھے نہیں لگ رہے، سیاستدان لڑائی کی بجائے جمہوریت کی بقا کا سوچیں لیکن سیاستدان کسی بھی خوش فہمی میں نہ رہیں ان کیلئے کوئی اچھے کی امید نظر نہیں آتی ہے ،ممکن ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو اور نگران حکومت بھی آسکتی ہے ۔
رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مجھےایسا لگا رہا ہے کہ ملک میں کہیں دوبارہ بڑی نہ صفائی ہوجائے، اس وقت پی ٹی آئی اور بانی بندگلی میں پھنس چکے ہیں ، یہ عقلمندی کا مظاہر کر کے اس سے نکل سکتے ہیں ، انہیں اس حد تک نہیں جانا چاہیے تھاجہاں سے واپسی کا راستہ مشکل ہو جائے۔
دو ماہ قبل جون میں بھی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظور وسان نے ملکی سیاست میں تین ماہ کا انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی تحلیل کر دیں۔









