وزیراعظم شہباز شریف نے آج نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے ہمراہ انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں ملکی سیکیورٹی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی گئی۔
اس دورے میں پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویے کی روشنی میں روایتی خطرے سے نمٹنے کی تیاری وں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے موجودہ سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ملکی قیادت کو علاقائی سلامتی کی پیش رفت اور ابھرتے ہوئے خطرات سے آگاہ کیا گیا جن میں روایتی فوجی آپشنز، ہائبرڈ وار فیئر حکمت عملی اور دہشت گردی کی پراکسیز شامل ہیں۔
وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ موجود قیادت نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے قومی نگرانی میں اضافے، بلا تعطل بین الایجنسی کوآرڈینیشن اور آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے قومی مفادات کے تحفظ اور پیچیدہ اور متحرک حالات میں باخبر قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ سازی کے قابل بنانے میں ایجنسی کے اہم کردار کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، افواج پاکستان قومی سلامتی، وقار اور عزت کے تحفظ کیلئے مکمل تیار ہیں۔









