ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئندہ ہفتے بلائے جانے کا امکان ہے ، مشترکہ اجلاس میں مدارس رجسٹریشن کا بل پیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
مدارس رجسٹریشن بل 26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا، صدر مملکت نے بل پر دستخط کیے بغیر واپس بھجوا دیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز چیئرمین پی پی بلاول بھٹو سے ملاقات میں مدارس رجسٹریشن بل پر صدرکے دستخط نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر بلاول بھٹو نے جے یو آئی سربراہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے آئندہ کوئی بھی تعاون مدرسہ رجسٹریشن بل کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو کا حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ ہوا ہے جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے جس میں بعض دیگر بلز بھی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
اس سے قبل مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ 7 دسمبر تک مدارس بل پر دستخط نہ کئے گئے تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔









