وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس بجٹ کو ہمیں ایک روڈ میپ کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ پاکستان ٹیکس ٹو جی ڈی پی ساڑھے نو فیصد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اسے 13 فیصد تک لے کر جانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ نان فائلرز کی کیٹیگری کو ختم ہی کر دیں۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہو گا جس میں نان فائلرز کی اختراع ہے۔ ہم نان فائلرز کے لیے قیمتوں کو اس انتہائی لیول تک لے گئے ہیں کہ وہ تین سے چار مرتبہ سوچیں گے ضرور کہ نان فائلر رہنا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ صنعتوں کے لیے گروس سبسڈی والا معاملہ کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکے۔ ہمیں ڈیجیٹل اکنامی کی طرف جانا ہے اور یہ بہت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جلد ہی اعلان کریں گے کہ وہ ڈیجیٹل انیشی ایٹیو کو آگے لے کر جا رہے ہیں اور اس کی سربراہی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے کسی کو لایا جائے گا۔









