0

بیرکوں سے قیدیوں کے نکلنے میں کوتاہی کسی کی نہیں تھی، سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل

سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے کہا ہے کہ بیرکوں سے قیدیوں کے نکلنے میں کوتاہی ہماری نہیں تھی، خوف کاعمل دخل تھا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے دوران قیدی خوف کا شکار ہوئے اورباہر نکلنے کیلئے اصرار کرتے رہے، قیدیوں نے کہا زلزلے کی وجہ سے ہمیں خوف ہے، ہم پر چھت نہ گر جائے۔

سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل نے کہا کہ رات 11 بجے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے اور خوف و ہراس پھیل گیا، بیرکوں سے قیدی نکالے نہیں گئے خود نکل گئے، قیدی بیرک کے دروازے کو دھکے دے کر توڑنے میں کامیاب ہوئے اور باہر نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ میں پہنچا تو قیدیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا، پولیس اہلکاروں نے مجھے قیدیوں سے بچایا، ارشد شاہ نے کہا کہ بھگدڑ کی وجہ سے دروازے کے کنڈے نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی گئی لیکن وہ نہیں رُکے، ایف سی کی فائرنگ سے بہت سے قیدی واپس آ گئے۔کسی قیدی نے اسلحہ نہیں چھینا، سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل کا کہنا تھا کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کو جیل کا لباس نہیں دیا جاتا، جرم ثابت ہونیوالے قیدیوں کوجیل کا لباس دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملیر جیل میں بیشتر قیدی نشے کے عادی تھے، ایک قیدی کی ہلاکت ہوئی، 2 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے، پولیس اہلکار زخمی ہوئے، شہری متاثر نہیں ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ رات کو 28 افراد سیکیورٹی پرمامور تھے، فائرنگ کے دوران رینجرز کے جوان کو گولی لگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply