0

ایف بی آر کی کارکردگی میری سمجھ سے باہر ہے،وزیر اعظم :چیئرمین کی سرزنش

وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین ایف بی آرامجد زبیرکی سرزنش کردی۔

ذرائع وزیراعظم آفس کے مطابق کی کارکردگی میں ناکامی پر وزیراعظم نے چیئرمین امجد زبیرکو وارننگ دی،شہبازشریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کارکردگی میری سمجھ سے باہر ہے۔

انہوں نے چیئرمین کو وارننگ دی کہ  ادارہ کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو توعہدےسےہٹ جائیں،چیئرمین امجد زبیر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ادارے میں لابنگ ہو رہی ہے، افسران کام نہیں کر رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بنے2ماہ ہو گئے،آپ مجھے اب بتا رہے ہیں کہ ادارے میں افسران کام نہیں کر رہے،چیئرمین امجد زبیر نے ملازمین کو عہدے سے ہٹوا کر ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی زیرصدارت ایف بی آرہیڈکوارٹرزمیں اجلاس ہوا ،اجلاس میں چیئرمین اور بورڈ ممبران نےشرکت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں محصولات کی وصولی کےحوالے سےایف بی آرکی کارکردگی کاجائزہ لیا گیا،چیئرمین امجد زبیرنے رواں مالی سال کیلئے ادارے کی محصولات اکٹھاکرنےکی کوششوں پربریفنگ دی۔

چیئرمین امجد زبیر نےکارکردگی بہتربنانےکیلئےڈیجیٹلائزیشن کےاقدامات کےحوالےسے بھی بتایا،وزیرخزانہ نے ہدایت کی کہ ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب بڑھانے،محصولات وصولی میں اضافےکیلئےٹیکس کی بنیادوسیع کی جائے،رواں مالی سال کےمحصولات کےاہداف حاصل کرنےکیلئےہرممکن کوشش کی جائے۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا ابتدائی 10 ماہ میں ریونیو شارٹ فال 48 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ ایف بی آ ر نے 7414 ارب روپے کے ہدف کے مقابلہ میں 7366 ارب روپے جمع کیے۔

اپریل 2024 میں ریونیو شارٹ فال 53 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا اور اپریل میں ٹیکس کا ہدف 707 ارب روپے تھا۔

ایف بی آر نے اپریل میں 654 ارب روپے اکٹھے کیے۔ رواں ماہ ایف بی آر کو 100 ارب روپے تک ریونیو شارٹ فال کا خدشہ ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر 91 سو ارب روپے سے زائد ٹیکس محصولات اکٹھے کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply