نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ کشمیریوں کاحق خود ارادیت کوئی نہیں چھین سکتا،پانی ہماری زندگی ہے، اس پر کمپرومائز قبول نہیں،سندھ طاس معاہدے پر حملہ منظور نہیں۔
پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کیخلاف ہے،کسی بہانے بھی اپنی سرحدوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینگے،عزت اور برابری کیساتھ پاکستان امن چاہتا ہے ،یہ ہمارا واضح پیغام ہے۔
علاوہ ازیں پاکستانی وفد نے بلاول بھٹوکی سربراہی میں یواین کی سلامتی کونسل کے اراکین سے ملاقات کی ،ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، جاپان، جنوبی کوریا اوردیگر ممالک کے اراکین کے سامنے پاکستان کامؤقف رکھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بے بنیاد بھارتی الزامات کو منتخب اراکین کے سامنے دلائل کیساتھ مسترد کیا،انہوں نے کہا کہ بغیر کسی تحقیق یا شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی ناقابل قبول ہے،بھارت کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے،سندھ طاس معاہدے کی معطلی سےپانی کی قلت، غذائی بحران اور ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے،عالمی برادری جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے تنازع سے قبل حل تلاش کرے۔
پاکستان کابھارتی جارحیت کیخلاف ردعمل نپا تُلا، ذمہ دارانہ اور یواین کے چارٹر کے مطابق تھا،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب اراکین نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔









