0

کیتھولک اور مسلمان –

دنیا کی تاریخ میں آسمانی مذاہب کی بات کی جائے تو عام تعلیمات کے علاوہ ان کے ماننے والوں کی عبادات اور بعض فرائض کی بنیاد اور طریقہ بھی قدرے مشترک ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے ہزاروں سال کے دوران آپس میں کئی جنگیں‌ لڑی ہیں اور مذہبی تفریق اور اس کی بنیاد پر مباحث آج بھی جاری ہیں، مگر مذہب ہو، سیاست، قومیت یا ثقافت اور سماج سے جڑا کوئی مسئلہ یا کوئی بھی تنازع ہو، تحمّل اور برداشت کے ساتھ علمیت اور حکمت کا سہارا لے کر اسے انجام تک ضرور پہنچایا جاسکتا ہے۔

عالمی شہرت یافتہ مصنّف پاؤلو کوئیلہو کا ناول الکیمسٹ شاید آپ نے بھی پڑھا ہو، ان کی کتاب Like the Flowing River سے یہ مختصر تحریر آپ کے حسنِ مطالعہ کی نذر ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کس طرح مثبت سوچ کا اظہار کرسکتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

“میں دوپہر کے کھانے پر ایک کیتھولک پادری اور ایک نوجوان مسلمان سے بات کر رہا تھا۔”

“جب بیرا طشت لے کر آیا تو ہم سب نے اپنا کھانا نکالا، سوائے اُس مسلمان کے جو قرآنی احکام کے مطابق اس سال کے روزے سے تھا۔ جب دوپہر کا کھانا ختم ہوا، اور لوگ جانے لگے تو دیگر مہمانوں میں سے ایک سے رہا نہ گیا اور وہ کہنے لگا: ‘آپ نے دیکھا کہ یہ مسلمان کتنے کٹّر ہیں! مجھے خوشی ہے کہ آپ کیتھولک لوگ ان کی طرح نہیں ہیں۔”

’’لیکن ہم ہیں!‘‘ پادری نے جواباً کہا۔ ‘وہ خدا کے اتارے گئے فرائض ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جیسا کہ میں کرتا ہوں۔ ہم صرف مختلف قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ اور اس نے گفتگو ختم کرتے ہوئے کہا: ‘ یہ افسوس کی بات ہے کہ لوگ صرف اختلافات کو دیکھتے ہیں، جو ان کو ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں۔ اگر آپ زیادہ محبّت بھرے انداز سے دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ بنیادی طور پر ہم میں کیا مشترک ہے، پھر دنیا کے نصف مسائل تو ایسے حل ہو جائیں گے۔’

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply