ٹول پلازوں پر ریونیو کی وصولی بھی 32 ارب روپے سے بڑھ کر 64 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جو مالیاتی استحکام کے حوالے سے ایک اور سنگ میل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مواصلات، نجکاری اور بورڈ آف انویسٹمنٹ عبدالعلیم خان نے گزشتہ روز دورہ این ایچ اے ہیڈ کوارٹرز کے موقع پر نیشنل ٹریفک آپریشن سینٹر کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے موٹرویز پر ٹریفک مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لیا اور ریونیو کی وصولی کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایم ٹیگ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے 99 فیصد گاڑیاں منتقل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹ اور سائیڈ سے کیمروں کی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جائے اور اس کا ڈیٹا سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس بھی موجود ہو۔
وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے آئندہ 2 ہفتوں میں ایم ٹیگ کے استعمال کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں اس سہولت سے مستفید ہو سکیں جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے، چوری کی روک تھام ہوتی ہے اور ٹریفک کا دباؤ کم ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کنٹرول سنٹر کے دورے کے دوران مانیٹرنگ افسران سے بات کرتے ہوئے تجاویز طلب کیں جس پر انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل سسٹم کو زیادہ سے زیادہ آٹومیشن پر منتقل کرنا ہے۔
اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ محصولات کی وصولی کے حوالے سے گزشتہ 6 ماہ کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے جس سے این ایچ اے کو مالی طور پر خود مختار اور مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی میں ریکارڈ اضافہ پر این ایچ اے کے ملازمین کو بونس اور مالی انعامات دیے جائیں۔









