گورنراسٹیٹ بینک نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود میں ایک فیصد کمی کے بعد ساڑھے20سے کم ہو کرساڑھے 19فیصد کر دی گئی ہے جبکہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی کم ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ مہنگائی 38سے کم ہو کر12.6فیصد پر آگئی ہے، پچھلے ماہ کی مہنگائی 22.6فیصد پر تھی۔ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے، ستمبر میں دوبارہ مانیٹری پالیسی کو دیکھا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ امپورٹ کے بل میں بھی اضافہ ہورہا ہے، اسٹیٹ بینک کے ریزرو میں بھی بہتری آئی ہے ، درآمدات کو کھول دیا گیا ہے ، ریزرو میں بہتری کے ساتھ ساتھ ایکسٹرنل اکاؤنٹس میں بہتری آئی اور آئل امپورٹ میں بھی 900ملین ڈالر کی کمی ہوئی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025میں جی ڈی پی گروتھ 2.5سے3.5فیصد رہے گی جبکہ مالی سال 2025میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفرسے ایک فیصد کے درمیان رہے گا ۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ رواں مالی سال مہنگائی 11.5سے13.5فیصد کے درمیان رہے گی ۔









