گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود 13 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے کی وجہ سے پالیسی ریٹ کم ہوا۔ ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے لیکن چیلنجز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
جمیل احمد نے کہا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آ گئی تھی۔ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں توقعات سے بڑھ کر اضافہ ہوا ہے۔ جون تک مہنگائی کا ہدف 7 فیصد کے قریب رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کے ذخائر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ہدف سے بھی زیادہ ہوئے۔ اور معاشی اشارے بھی مثبت ہیں۔ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہت نمایاں کمی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ اور پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ اور کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے۔ پر امید ہوں آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی۔ جبکہ معیشت کی بحالی کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اورمتعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں ، وز









