بل کے مطابق 50 ایکڑ زیر کاشت اراضی یا 100سے زیادہ غیر کاشت اراضی پر بھی ٹیکس لگے گا،جو شخص ٹیکس جمع نہیں کرائے گا اس پر کلیکٹر یومیہ 0.1فیصد جرمانہ عائد کرے گا۔
زون ون میں ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ اراضی پر فی ایکڑ 1200 روپے ٹیکس عائد ہوگا،زون ٹو میں ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ اراضی پرفی ایکڑ 900 روپے ٹیکس عائد ہوگا،زون تھری میں ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ اراضی پر 500 روپے فی ایکڑ ٹیکس عائد ہوگا۔
مسودے کے مطابق چھوٹے کاشتکاروں پر بھی زرعی ٹیکس عائد کیا گیا ہے،6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ زرعی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
12 لاکھ سے 16 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 20 فیصد،16 لاکھ سے 32 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 30 فیصد،32 لاکھ سے 56 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 40 فیصد ،56 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 45 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔
نئی قانون سازی میں کارپوریٹ فارمنگ کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا،اسمال کمپنی پر سالانہ زرعی آمدن پر 20 فیصداور بڑی کمپنی پر 29 فیصد زرعی ٹیکس عائد ہوگا۔









