سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر تک تمام کرنسی نئے ڈیزائن کے مطابق متعارف کرائی جائے گی۔
کاغذ کی کرنسی کی بجائے ایک نوٹ پلاسٹک کا بھی متعارف کرایا جائے گا،نئے ڈیزائن کی کرنسی متعارف کرانے کیلئے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
گورنر اسٹیٹ بنک نے مزید بتایا کہ5ہزار کی کرنسی کا نوٹ بند نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی تجاویز ہیں، پلاسٹک کرنسی کی لائف کاغذ کی کرنسی سے بہتر ہوئی تو مستقبل میں یہی استعمال ہو گی۔
نئے کرنسی نوٹوں میں تمام نئے فیچرز متعارف کرائے جائیں گے،پلاسٹک کرنسی کیلئے پولی مر کا پلاسٹک استعمال کیا جائے گا۔
رکن کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کا اجلاس میں کہنا تھا کہ 5 ہزار کا نوٹ کرپشن کی جڑ ہے، جہاں کرپشن ہے وہاں 5 ہزار کا نوٹ ہے،5 ہزار کا نوٹ تکیوں کے نیچے اور تہہ خانوں میں ہوتے ہیں۔
اگر 5 ہزار کا نوٹ ختم کر دیں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے،جب 5 ہزار کا نوٹ جاری کیا گیا تب اس کی ویلیو بہت زیادہ تھی،ہم نئے نوٹس میں بھی پانچ ہزار کا نوٹ رکھ رہے ہیں۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،امید ہے ستمبر کے بورڈ اجلاس میں پاکستان کا کیس آجائے گا۔









