ورلڈ اکنامک فورم نے گلوبل رسک رپورٹ 2025جاری کر دی ، رپورٹ کے مطابق چیلنجز کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے،پاکستان نے کڑے چیلنجز کے باوجود معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔
خطے میں اسلحہ کی دوڑ کے باوجود پاکستان کی محتاط سوچ لائق تحسین ہے،دنیا بھر میں فوجی بجٹ میں اضافہ ہوا لیکن پاکستان اسلحہ کی دوڑ کا حصہ دار نہیں بنا۔
پاکستان نے مہنگائی میں کمی، معاشی استحکام اورروپے کی قدر میں بہتری دکھائی،پاکستان نے قرض کی بہتر انتظام کاری کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری دکھائی۔
پاکستان ماحولیاتی طور پر سب سے زیادہ متاثر ممالک میں سے ایک ہے،پاکستان میں سیلاب، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت جیسے عوامل استحکام اور روزگار کے لیے خطرہ ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی پولرائزیشن پرروشنی ڈالی گئی،رپورٹ میں جغرافیائی سیاسی تنازعات، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحرانوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
ترقی پذیر معیشتوں کی طرح پاکستان کو بھی پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے،پیچیدہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک لچک اور پالیسی میں جدت ضروری ہے،مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اورقرضوں کے بوجھ سے پاکستان کی معیشت کمزور ہو سکتی ہے۔
سی ای او مشعل پاکستان عامر جہانگیر کا کہنا ہے کہ علاقائی تعاون کو بڑھا کر پاکستان مزید استحکام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت مستقبل کا تعین کرے گی۔
پاکستان خود کو ابھرتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اہم کھلاڑی کے طور پر کھڑا کر سکتا ہے۔









