0

یوکرین کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا،پولش سفیر

پاکستان میں پولینڈ کے سفارت خانے نے یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جس کی میزبانی پاکستان میں پولینڈ کے سفیر میکیج پسارسکی نے کی۔

تقریب میں کئی ممتاز سفارت کاروں نے شرکت کی جن میں یورپی یونین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فلپ گراس، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، جرمن سفیر الفریڈ گراناس اور فرانسیسی سفیر نکولس گیلی شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چچوک، بوسنیا کے سفیر ساکیب فورک اور چیک کے سفیر لاڈیسلاو اسٹین ہوبل بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

پولینڈ کے سفیر کا خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولینڈ کے سفیر ماکیج پسارسکی نے یوکرین کے ساتھ کھڑے ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہاں جمع ہونے پر سب معزز مہمانوں کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ تین سال قبل روس نے یوکرین کے خلاف اپنی بھرپور جارحیت کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور اس حملے کے خلاف غصہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جارحیت نے ترقی پذیر ممالک میں توانائی اور خوراک کے بحران کو جنم دیا ہے، یوکرین کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

پسارسکی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین نہ صرف اپنی آزادی بلکہ یورپ کی آزادی کے لیے بھی لڑ رہا ہے۔

اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یوکرین کے لوگوں کو ہتھیار فراہم کئے، اس کے علاوہ تارکین وطن کو پناہ دینے اور فوجی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یوکرین کی زمین پر قبضہ صرف تنازع کو بڑھا وا دے گا اور ہم کبھی بھی یوکرین کے علاقوں پر روسی کنٹرول کو تسلیم نہیں کریں گے۔

یورپ اس سال دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ منا رہا ہے،دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کو متحد ہونے میں 40 سال لگے۔ بہت سی دوسری قومیں یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہیں اور ایک دن یوکرین ہماری یونین کا مکمل رکن بن جائے گا۔

پسارسکی نے روس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت اس بات سے آگاہ ہے کہ یوکرین ایک جدید اور بدعنوانی سے پاک ریاست بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یوکرین کے سفیر کا خطاب

یوکرین کے سفیر مارکیان چچوک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگ نے ان کی قوم کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آج یہاں بھاری دلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس وحشیانہ جنگ نے یوکرائنی عوام  کا امتحان لیا ہے۔

انہوں نے تقریب کے انعقاد پر پولش سفارت خانے کا شکریہ ادا کیا اور جرمنی، جمہوریہ چیک، فرانس اور یورپی یونین کے نمائندوں کی موجودگی کو سراہا۔

یوکرینی سفیر نے مزید کہا کہ اس جنگ نے 50 ملین یوکرینیوں کو بے گھر کر دیا ہے، خاندانوں اور برادریوں کو توڑ دیا ہے۔ ہر چیز کے باوجود، ہم نے اپنے 82 فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔

سفیر نے زور دے کر کہا کہ یہ جنگ صرف فوجی تصادم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کے بارے میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جارحیت کے باوجود، صدر پوٹن خود کو ایک شکار کے طور پر پیش کر رہے ہیں،دنیا بھر میں 400 ملین افراد یوکرائنی خوراک کی فراہمی پر انحصار کرتے ہیں اور روس کی جنگ نے خوراک کے عالمی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سنگین صورتحال کے باوجود، چوچک نے افریقہ، فلسطین اور شام سمیت خطوں کو خوراک کی امداد فراہم کرنے کے لیے یوکرین کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنا کر ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اب تک، روس نے امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی۔صرف مل کر ہی ہم امن کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

دستاویزی اسکریننگ اور نمائش

تقریب میں یوکرائنی سفارت خانے نے جنگ کے اثرات کو ظاہر کرنے والی ایک دستاویزی ویڈیو اور فوٹو گرافی کی نمائش پیش کی۔ ’’کلچر بمقابلہ جنگ‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply