پیجرز بنانے والی تائیوانی کمپنی نے پیجرز ہنگری کی کمپنی میں بننے کا دعویٰ کر دیا ہے جبکہ ہنگری نے تائیوان کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ہنگری کی کمپنی کا کہنا ہے کہ لبنان میں جن ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے وہ ہنگری میں کبھی نہیں تھے، ہماری ٹریڈنگ کمپنی ہے اس کا پیجر بنانے کا کام نہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیق کے مطابق پیجر دھماکوں کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصویروں میں نظر آنے والے ایک تباہ شدہ پیجر پر ’گولڈ‘ اور ’اے پی‘ یا ’اے آر‘ کے الفاظ نمایاں نظر آتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پیجر تائیوانی کمپنی ’گولڈ اپولو‘ نے تیار کیے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے مزید معلومات کیلئے تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو سے رابطہ کیا تو انہوں نے پیجرز بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل بنانے کے بعد اسے کے حقوق ہنگری کی ’بے اے سی‘ نامی کمپنی کو فروخت کر دیے گئے تھے
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ گولڈ اپولو کے مطابق بے اے سی نامی ہنگرین کمپنی کو لائسنسنگ ایگریمنٹ کے تحت پیجرز کا یہ ماڈل بنانے اور اس کی برانڈنگ کی اجازت حاصل تھی۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ معاملے سے متعلق معلومات اور مؤقف حاصل کرنے کیلئے بے اے سی نامی کمپنی سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔









