نمرہ خان کے اشارے پر مذکورہ گاڑی جیسے ہی سڑک پر رکتی ہے تو موٹرسائیکل سوار فورا وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا اور ایس ایس پی سائوتھ ساجد سدوزئی نے واقعے پر ایس ڈی پی او منیشا روپیتا کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔واضح رہے کہ نمرہ خان نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ پیر کو ڈیفنس فیز 8 میں مقامی ہوٹل کے باہر گاڑی کا انتظار کررہی تھیں، ہاتھ میں موبائل فون اور کندھے پر بیگ موجود تھا، رش کی وجہ سے گاڑی میں فیملی پھنسی ہوئی تھی اور بارش ہو رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران تین افراد میرے پاس آکر رکے اور مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی، انہوں نے مجھے پکڑا اور پیٹ پر اسلحہ رکھ دیا، میں نے شور شرابا کیا، میرے سامنے چار گارڈز بیٹھے ہوئے تھے مگر کسی نے نہیں سنا، میں نے اپنا تحفظ خود کیا اور موٹر سائیکل کو دھکا دیا، میں وہاں سے بھاگی۔اداکارہ نے کہا کہ وہ مجھے پیچھے سے گولی مارسکتے تھے، میں چلتی گاڑی کے سامنے آگئی، گاڑی میں سوار فیملی نے مجھے بچالیا، اس دوران مقامی ہوٹل کی پوری ٹیم باہر آئی اور مجھے ریسکیو کرلیا۔









