0

گھریلو ملازمین سے متعلق اہم خبر

سعودی عرب میں موجود گھریلو ملازمین کے اعداد و شمار کے حوالے سے وضاحت جاری کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 48 ہزار 200 نئے گھریلو ملازم آئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے آخر میں گھریلو ملازمین کی تعداد 18 لاکھ 40 ریکارڈ کی گئی۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق صفائی پر مامور گھریلو مرد ملازمین کی تعداد 7 لاکھ 87 ہزار 900 ریکارڈ کی گئی، صفائی پر مامور گھریلو ملازم خواتین کی تعداد 12 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ یہ گھریلو ملازم خواتین کا 73 اعشاریہ سات فیصد ہے۔

گھروں میں ٹیوشن دینے والوں کی تعداد 4611 ہے ان میں 99.5 فیصد خواتین ہیں، گھریلو نرسوں کی تعداد 1637 ریکارڈ کی گئی ہے۔

گھروں، عمارتوں اور گیسٹ ہاؤسز کے چوکیداروں کی تعداد 22 ہزار 506 ہے ان میں 12 خواتین شامل ہیں،گھریلو ڈرائیوروں کی تعداد 17 لاکھ 90 ہزار ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں موجود پاکستانی طلباء کو خوشخبری سنادی گئی، مملکت نے ایک بار پھر اپنی 25 یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پاکستانی طلبا و طالبات کو 600 اسکالر شپس دینے کا اعلان کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ وظائف ڈپلومہ، ڈگری، ماسٹرز اور اپی ایچ ڈی کے طلبا و طالبات کو دیے جائیں گے۔

سعودی عرب میں قانونی طور پر مقیم پاکستانی طالب علم اور پاکستان میں مقیم طلبا و طالبات دونوں ان سکالر شپس کے لیے اہل ہیں۔ 75 فیصد اسکالر شپس پاکستان سے طالب علموں جبکہ 25 فیصد سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبا کو دیے جائیں گے۔

شہزادی نورہ بن عبدالرحمان یونیورسٹی برائے طالبات ریاض اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے علاوہ تمام یونیورسٹیاں صرف 25 فیصد بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے کی پابند ہیں۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply