انہوں نے کہا کہ میں اپنے ماضی کو سوچ کر اداس ہوجاتی ہوں، میرے والدین مجھ میں اور میرے بھائی کے درمیان امتیاز برتتے، بچپن میں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آتی ہے۔ملیکہ شیراوت نے کہا کہ لڑکا ہے تو اسے باہر بھیجو، اسے پڑھاو، اس پر پیسے خرچ کرو، خاندان کی ساری دولت بھی بیٹے یا پوتے کو ہی ملے گی، لڑکیوں کا کیا ہے؟ ان کی تو شادی کرنا پڑے گی، یہ ذمے داری یا بوجھ ہے۔
انہوںنے کہاکہ مجھے یہ رویہ برا لگتا تھا، ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں، میرے گاوں کی تمام ہی لڑکیوں سے یہ سلوک اور انصافی برتی جاتی تھی۔اداکارہ نے کہاکہ میرے والدین نے مجھ بہت کچھ دیاجس میں اچھی تعلیم بھی شامل ہے لیکن اچھے خیالات نہیں دئیے، آزادی نہیں دی، بہت اچھے سے میری پرورش نہیں کی، کبھی مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے بتایا کہ میں نے بچپن میں بہت سے کھیل کھیلے لیکن چھپ کر، مجھ پر بہت پابندیاں تھیں، میرے خاندان نے مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی۔









