بنگلہ دیشی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقتدار چھوڑنے سے کچھ پہلے شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں پر آئی جی پولیس کو سراہا تھا۔
حسینہ واجد نے کہا کہ پولیس بہت اچھا کام کر رہی ہے، جواب میں آئی جی بولے لیکن حالات اب اس جگہ پہنچ چکے ہیں جہاں پولیس حکومت کے سخت مؤقف پر کھڑی نہیں رہ سکے گی لیکن حسینہ واجد یہ ماننے کو تیار نہ تھیں۔
اخبار کے مطابق سینئر حکام نے شیخ حسینہ کے اقتدار چھوڑنے سے انکار پر ان کی بہن شیخ ریحانہ کو الگ کمرے میں لے جا کر کہا کہ جا کر حسینہ واجد کو سمجھائیں کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں لیکن شیخ ریحانہ کی بات بھی حسینہ واجد نے رد کردی۔
اس موقع پر حکام نے شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد جوائے کو فون کیا جو اس وقت ملک سے باہر تھے، واجد جوائے نے اس کے بعد ماں کو فون کرکے مستعفی ہونے پر راضی کیا جس پر حسینہ واجد نے شرط رکھی کہ وہ تقریر ریکارڈ کروانا چاہتی ہیں۔
لیکن اسی وقت ایک بڑے مجمع کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کی اطلاعات آنا شروع ہوگئیں، خفیہ اداروں نے اندازہ لگایا کہ یہ مجمع 45 منٹ میں وزیراعظم ہاؤس پہنچ جائے گا، اس لیے شیخ حسینہ کو تقریر ریکارڈ نہیں کرنے دی گئی۔
دوپہر ڈھائی بجے استعفے کی کارروائی مکمل ہوئی اور حسینہ واجد اپنی بہن ریحانہ کے ساتھ فوجی ہیلی کاپٹر میں بھارت کیلئے روانہ ہو گئیں۔









