ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی خصوصی فوج سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے اپنی تحقیقات میں بتایا کہ اسماعیل ہانیہ کو شارٹ رینج پراجیکٹائل سے شہید کیا گیا۔ میزائل میں 7 کلوگرام کا وار ہیڈ استعمال کیا گیا جبکہ اس میزائل کو حماس رہنما کی رہائش کے قریب سے فائر کیا گیا۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ یہ حملہ اسرائیل نے مجرم امریکی حکومت کی حمایت سے کیا تھا۔ جس پر تہران کا ردعمل شدید اور مناسب وقت پر ہو گا۔
واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کے خصوصی انٹیلی جنس یونٹ نے واقعے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی تحقیقات کے سلسلے میں متعدد ایرانی انٹیلی جنس اور فوجی افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایران کے فوجی ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے اس گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جہاں اسماعیل ہانیہ مقیم تھے۔
امریکی اخبار کے مطابق اسماعیل ہانیہ پر تہران میں قاتلانہ حملہ ایران کی سیکیورٹی کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اسماعیل ہانیہ کو 31 جولائی کو تہران میں اس وقت شہید کیا گیا۔ جب وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران موجود تھے۔









