0

دریائے سندھ سے درجنوں مشینیں لگا کر غیر قانونی سونا نکالے جانے کا انکشاف

اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سے غیر قانونی طریقے سے سونا نکالا جانے کا انکشاف کیاگیا ہے، کھدائی کیلئے درجنوں مشینیں دریا میں اتار دی گئیں، غیر قانونی مائننگ سے ماحول پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ پچھلے کئی روز سے دریا میں ہیوی مشینیں لگا کر غیر قانونی طور پر سونا نکالا جارہا ہے ، غیر قانونی سونا نکالے جانے کی ہم نے ڈی سی اور ڈی پی او کو درخواست دی ہے جس میں ہم نے مطالبہ کیا کہ یہاں غیر قانونی طور مائننگ ہو رہی ہے جس سے ہماری فیملیاں متاثر ہو رہی ہیں، اسے فی الفور بند کیا جائے۔

بزرگ شہری نے بتایا کہ ہماری درخواستوں کے بعد لوکل انتظامیہ یہاں چکر لگا رہی ہے لیکن ہماری بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔ ہماری وزیراعظم شہباز شریف ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز سےدرخواست ہے کہ علاقے میں غیر قانونی طور پر سونا نکالا جارہا ہےاسے بند کیا جائے ۔

ہم نیوز کے پروگرام ” ” میں گفتگو کرتے ہوئے سابق مشیر ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ جو خزانے اللہ تعالی نے اس علاقے کو دیے ہیں اس کا فائدہ نہ تو آج تک عوام کو ہوا ، اور نہ ہی ضلع کو ہو سکا ہے، نگران حکومت میں جیو لوجیکل سروے کی ایک رپورٹ آئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہاں پر تقریبا 28 لاکھ تولے سونے کے ذخائر موجود ہیں جس کی مالیت تقریباً 600 ار ب روپے بنتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جیولوجیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد مائننگ ڈیپارٹمنٹ باقاعدہ اسے لیز آئوٹ کرتا ، اس کی آکشن کی جاتی اور قانونی طور پر یہاں پر کام شروع کیا جاتا ہے ۔ دریائے سندھ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بارڈر پر موجود ہے چونکہ اٹک پنجاب کا ضلع ہے ، وہاں پر اب بھاری مشینیں لگا کر غیر قانونی طور پر دریا سے سونا نکالا جارہا ہے۔

جس کی تصدیق اردگر د کی آبادی بھی کر رہی ہے، مجھے بتایا گیا ہے کہ مشینوں والے روزانہ لاکھوں روپے کی پمنٹس کرتے ہیں جو وہاں کی لوکل انتظامیہ یا جنہیں مائننگ کے ایریا میں جانے کی اجازت دی گئی ہے انہیں ڈائریکٹ پیسے دے دیے جاتے ہیں جس کا نہ تو عوام کو فائدہ ہو رہا اور نہ ہی ضلع کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لوکل افراد کی جانب سے فون کر کے کہا گیا ہے کہ ہمیں بھی دریا میں مشین لگانے کی اجازت دیں ۔ میں نے وہاں کی انتظامیہ سے طریقہ کار پوچھا مجھے یہ بتایا گیا کہ اس کی باقاعدہ اجازت مائننگ ڈیپارٹمنٹ نے دینی ہے اس کی بعد ہی کچھ ہو گا ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہاں پر مشینیں لگی ہوئی ہیں اور سونا نکالا جارہا ہے جس کا ریونیو نہ تو پاکستان کو آرہا اور نہ فائدہ اٹک اور اس کے لوگوں کو دیا جارہا ہے ۔

سابق مشیر ماحولیات نے کہا کہ جب میں وزیر مالیات تھا اس وقت ہمیں رپورٹ کیا گیا تھا کہ دریا کے کنارے مشین لگی ہوئی ہے جو ریت نکال رہی ہے، جس کی وجہ سے ماحول پر گہراثر پڑ رہا ہے ، یہاں بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں۔جب ہم نے وہاں کا وزٹ کیا تو پتہ چلا کریش کا ٹھیکہ کی آڑ میں وہاں سےسونا نکالا جارہا ہے،ہمیں اس وقت اس چیز علم نہیں تھا وہاں کے رہائشیوں نےہمیں بتایا کہ یہ مشین لگا کر یہاں سونا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جو شکایات آرہی ہیں کہ بھاری تعداد میں مشینیں لگا کر غیر قانونی طور پر سونا نکالا جارہا ہے اس سے ماحول کو نقصان تو ہونا ہے لیکن مائننگ سے فائدہ نہ تو ضلع کو ملنا اور نہ ہی وہاں کی عوام کو کوئی سہولیت میسر آنی ہے ۔

ملک امین اسلم نے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ بالکل مائننگ سے ماحول پر برا اثرپڑتا ہے ۔کچھ سال پہلے یہاں 75 کلو میٹر رقبے پر پانی ہوتا تھا لیکن اب پانی نہیں ہے ،دریا کے بہائو کو کم سے کم رکھنے کیلئے پچھلی گورنمنٹ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

سابقہ تحریک انصاف کی حکومت میں اسد قیصر صوابی سے ایم این اے تھے وہ کمیٹی کے ہیڈ تھے، اس وقت ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، میٹنگ کا مقصد دریا کا آئو ٹ فلو بحال کرنا تھا کیونکہ اس سے کسی بھی وقت آبادی تباہ ہو سکتی تھی لیکن بد قسمتی سے اس پر ابھی تک کام نہیں کیا گیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پہلے یہاں پر دریا تھا جس نے ختم توکبھی ہونا نہیں تھا لیکن اب وہ بدقسمتی سے خشک ہو چکا ہے، یہ زمین قیمتی بھی ہے اور اس کے اندر سونا بھی ہے۔ لیکن اب جو دریا میں بھاری مشینری لگا کیا جارہا وہ غیر قانونی ہے اس سے ماحول پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

مزید ویڈیومیں ملاحظہ کریں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply