0

یوسفِ بے کارواں

یہ جنرل ضیاء الحق کے مارا لا کاہ تھا، کشور ناہید صاحبہ نے لاہور میں فیض احمد فیض کی سالار کا انتخاب کیا جس میں اپنے وقت کے معروف شاعروں، ادیبوں، فلموں اور ٹی وی اداکاروں اور بہت سے سیاستدانوں نے بھی ایک کمپنی کی شرکت کی۔

اس تقریب میں باغیانہ نظمیں سنائی اور آزادیِ اظہار پر اظہار رائے پر تقریریں بھی کہتی ہیں۔ اگلے دن محمد علی، شعیب ہاشمی، حمید اختر، ملک معراج خالد اور اعتزاز احسن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جالب کی جگہ غلطی سے اداکار حبیب بھی پکڑے گئے اور مارا لا حکومت نے دعویٰ کیا کہ ان سب کو غدارانِ وطن کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان سب کو جیل میں بند۔ واحد محمد علی کی اہلیہ زیبا کامیابی کی ایک دیگ جیل بھجواتی جس سے جیل کا عملہ فیض یاب ہوتا ہے اس کے علاوہ دیگر قیدیوں کے ساتھ۔

فوجی وزیر کو غدارانِ وطن کی جیل میں عیاشیوں کا پتہ چلا تو آپ محمد علی کو لاہور میانوالی جیل بھجوا دیا۔ مئی کا مہینہ شروع ہوا تو محمد علی کو جیل گرمی میں نکلے۔ ہماری فلمی ہیرو ان گرمی دانوں کے سامنے بے بس اور ایک معافی نامہ لکھ کر دیدیا۔ محمد علی کو فوری طور پر حاضر کیا گیا اور جنرل ضیاء الحق نے انہیں آرمی چیف نے اپنی بیٹی زین ملوایا جو ان کی بہت بڑی پرستار تبدیل کر دیا اخبارات میں محمد علی اور زین ضیاء کی تصاویر شائع کریں تو فوجی حکومت کی طرف سے اپنے سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے کے دعوے کے مذاق بن گئے

محمد علی تو ایک انہوں نے کبھی انقلابی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا لہٰذا ان کی طرف سے معافی نامہ لکھنے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی لیکن آج کل پاکستان کی سیاست میں بہت زیادہ معافی کے ناموں نے ایک انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ عمران خان کی تحریک انصاف میں جن مفکر پرستوں کو ہجوم در ہجوم شامل کر لیا گیا تھا وہ سب انقلاب کا دعویدار بن گیا۔ آج یہ انقلابی، ہجوم در ہجوم عمران خان کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

انہی نام نہاد انقلابیوں میں ایک علی زیدی بھی۔ یہ صاحب جب وزیر اعظم تھے تو ہمارے دوست ارشد شریف نے علی زیدی کو خوب بے نقاب کیا۔ کچھ دن پہلے تک موصوف دعویٰ کر رہے تھے کہ جب عمران خان تحریک انصاف کو نہیں چھوڑیں گے پھر اداکار محمد علی کے اسٹائل میں علی زیدی نے اپنے ماتھے پر انگلی رکھ کر کہا کہ میں ماتھے پر گولی لیکن تحریک انصاف نہیں چھوڑوں گا۔ کچھ دن کے بعد علی زیدی نے انتہائی ڈھٹائی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تو ہمیں محمد علی یاد آگئے۔ علی زیدی نے اداکاری میں محمد علی کو مات دے دیا۔

جس دن کراچی سے تحریک انصاف کے رہنما محمود مولوی عمران خان کو خدا حافظ کہا تھا کہ ہم اسی دن راضی ہو گئے تھے کہ اب علی زیدی بھی چلے جائیں گے کیونکہ علی زیدی محمود مولوی کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔ ہم سے بھی بہت کشور ناہید علی زیدی جیسوں کو پہچان لیا اور بے نقاب بھی۔ کچھ دن کشور ناہید کی ایک کتاب اور ”سوچ سے خوف کیوں!”شائع ہوئی جس میں ”گفت وناگفت طلسم ہوشربا” کے نام سے ان کی ایک دلچسپ تحریر شامل ہے۔ اس تحریر میں وہ عمران خان سے مخاطب ہیں اور ان سے مشورہ کر رہے ہیں۔ یہ تو بتائو وہ آ رہے ہیں جو امریکہ اور انگلش آئے۔ وہ اپنے ٹھکانوں پر واپس گئے؟ وہ جو بحر و بر پکڑنے کراچی میں براجمان۔ بغلوں منہ دے کر میٹنگ میں مارتا تھا، اب کس کے مفتا مانگتا گھر میں کشور ناہید سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی تحریر میں انہوں نے قلم کو تلوار کی طرح چلایا۔ پہلے عمران خان کویوسف بے کارواں” نے پہلے اور بتایا تھا کہ نہیں۔

کشور آپ کا ایک جملہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ فرماتی ”مراد سعید آپ کا تارا تھا، اس معصوم کو جیسے چاہو استعمال کرو۔” مراد سعید آج کل انتہائی سنگین کے ساتھ شدید زد میں ہے لیکن وہ ابھی تک تو عمران خان کے ساتھ ہے۔ کشور ناہید نے جمائما گولڈ سمتھ کو ایک فرشتہ صفت عورت قرار دیا ہے کیونکہ وہ ایک بچے کو ماں بن کر پال رہی ہے، عمران خان نے اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے اس بات پر لیکن ریحام خان اور بشریٰ بی کے بارے میں کشور ناہید۔ بہت غضب ناک باتیں لکھی کشورناہید نے اس زمانے میں عورت کے حقوق کی آواز بلند کی تھی جب این جی اوز وغیرہ کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

ان کی نظم ”ہم گار عورتیں” کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو جائے۔ خود انہوں نے اپنی ایک کتاب کا نام ”بُری عورت کا کتا” رکھا تھا لیکن بشریٰ بی پر انہوں نے تنقید کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ بشریٰ بی بی عمران خان کو اپنی پیری مریدی کے شیشے میں اتارا اور پھر اس کا ارمان پانچ بچوں کے سرخ گھونگٹ میں چھپا کر پورا کرنا۔ کشور ناہ نے عمران خان پر اس وقت بھی تنقید کی تھی جب وہ وزیر اعظم تھے اور آج وہ عمران کے ناقد ہیں لیکن کشور ناہید موجودہ حکومت کی طرف سے بھی سختی سے کام لیتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے لاہور میں جشن جون ایلیا کی ایک نشانی حکومت کے بارے میں جون ایلیا کا یہ شعر پڑھنا:

میں بھی بہت عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ اور ملال بھی نہیں۔

کشور آپ کو بالکل واضح طور پر بیان کرنا شعر سن کر زور سے بولیں کہ حکمرانوں نے تو غریبوں کو تباہ کیا جو چنے کی دال بھی نہیں خریدتے۔ آج کل یہ حکومت تحریک انصاف کو غدار قرار دے رہی ہے۔ بہت سے خواتین میں عمران خان اور ان کی تصاویر کے ساتھ چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا کر غدارانِ وطن پر لعن طعن کی جا رہی ہے۔ میں ان غداروں میں اپنی تصویر تلاش کرتا ہوں۔ جب میں اپنی تصویر میں نظر نہیں آیا تو مجھے سب کی غداری پر شک گزرتا ہے۔ یہ بھی ویسے ہی غدار ہیں غدار شاعر محمد علی۔ ایک معافی نامہ لکھ کر وہ غداری کے الزام سے نکلا۔ تحریک انصاف ایران میں جو عمران خان کو چھوڑ دیتا ہے وہ غدار نہیں ہے۔ پہلے ہماری ریاست دو نمبر محب وطن پیدا کرتی تھی اب دو نمبر غدار پیدا کر رہے ہیں۔

جیسے کہ غدار عمران خان کے ساتھ تمام تر تنازعات پر مجبور ہیں کہ موجودہ حکومت اور اس کے سرپرستوں نے غداری کے الزام کو بھی ایک مذاق بنا دیا۔ اس ملک میں نئے غداروں کی ایک جماعت پر ضرب کی تعداد دینے والے محب وطن ریٹائرڈ جرنیلز کے بارے میں خاموش ہیں جو زبردستی سے اس غدار پارٹی کو اقتدار میں شامل ہیں۔ اگر اس کے ساتھی بھی صرف سیاستدانوں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو عمران خان یوسف بے کاروں کو کل پی ڈی والے یوسف بے کارواں ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کیرتی پالیسی کی اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply