0

سوالوں نے آگے بڑھنے کی طرف سفر کا آسان حل تلاش کیا۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں آئی / فائل فوٹو

سوچوں نے اپنے طور پر عمر کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کی روک تھام کا آسان حل تلاش کیا۔

امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں نے بتایا کہ تصور کا احساس عمر کے اثرات سے روکا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں مکھیوں کی ایک قسم کے فروٹ فلائیز کا جائزہ لیا گیا۔

ان مموں کو تحقیق کا حصہ بنانے کی وجہ یہ تھی کہ ان جینز کے 75 فیصد خواتین سے ملتے جلتے ہیں جبکہ میٹابولزم اور دماغ بھی مماثلت سے لڑتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ان مکھیوں کو آرام کا احساس دلایا گیا تو ان کی عمر میں سمجھوتہ کیا گیا۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ کبھی ختم نہ ہونے کا احساس ہونے سے انٹرنٹ فاسٹنگ کے عمر میں کمی والے اثرات کو متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ تحقیق کے دوران ان مکھیوں کو صرف کھانے کا احساس دلایا گیا تو دور نہیں رکھا گیا۔

ہم نے بتایا کہ ہم نے مناسب غذا کی فراہمی کے لیے محققین کو یہ محسوس کیا کہ ہمیں نہیں مل رہا، عمر میں کھانے سے جسم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے روک تھام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ انٹرمٹ فاسٹنگ کا طریقہ کار میں ایک خاص وقت تک کھانے سے دوری اختیار کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں جسمانی وزن میں کمی کے لیے اس طریقہ کار کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے جبکہ تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ورم لڑنے سے مدد ملتی ہے جبکہ صحت مند زندگی کا تعاقب ممکن ہے۔

تاہم اس کے فوائد پر ابھی تک محدود تحقیقی کام ہوا ہے۔

اس نئی تحقیق میں چین امینو ایسڈ (بی سی اے اے) نامی غذائی جز کا استعمال کیا گیا جو مکھیوں میں پیٹ بھرنے کا احساس متحرک کرتا ہے۔

تو انہیں ہمسایہ غذا استعمال کرائی گئی جس میں بی اے کی مقدار کم خوراک سے ملک کی سی بنی رہی۔

بی سی اے پر مبنی غذا کے استعمال میں مکھیوں میں کاربوہائیڈس کی نظر ڈالنے پر نظر ڈالنے کا رجحان آیا۔

اس میں مکھیوں نے براہ راست نیورون کو متحرک کر دیا جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کو متحرک کیا اور ساتھ ہی کیا کہ اس وقت تک مکھیوں کو زیادہ زندہ رکھا۔

محققین نے بتایا کہ اس سے زندگی کی مدت میں انکشاف ہوتا ہے کہ اس کی عمر میں اس کے اثرات کی روک تھام ہوتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کا دائرہ مزید تیز کرتے ہوئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسانوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس میں شائع کرنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply