0

جنرل باجوہ نے بھی عمران کو بشریٰ اور فرح کی سرگرمیوں کے شواہد دکھائے تھے

عمران نے اپنی تصویر خاموشی اور فرح خان کے کردار کے خلاف کارروائی کی حمایت نہیں کرنا پسند کیا/ فائل
عمران نے اپنی تصویر خاموشی اور فرح خان کے کردار کے خلاف کارروائی کی حمایت نہیں کرنا پسند کیا/ فائل

اسلام آباد: جنرل عاصم من کی جانب سے عمران خان کی جانب سے چند بی بی عمران خان بشریٰ اور فرح خان کی طرف سے معافی نہیں لی گئی ماہ قبل جنرل باجوہ نے ایک بیان پیش کیا جس میں عثمان احسن اور عثمان گجر کی مُلیٰ نے شرکت کی۔ تعلق سے معلومات موجود

عمران خاموشی اور فرح خان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔

اتفاقا، سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی طرف سے چیک کرنے والے شواہد لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے پہنچایا جو اس وقت ڈی جی آئی ایس

انہوں نے یہ سوچا کہ عمران خان کو مطلع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ یہ معاملہ ان لوگوں سے ملے گا۔

دوسری جانب اس صورتحال سے مثبت نتائج کا کہنا ہے کہ باجوہ یہ معلومات آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مصر پر تھے کیونکہ ان کی رائے تھی کہ بزدار کے دوسرے امیدوار کے لیے اچھا انتخاب کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب باجوہ نے یہ معلومات بتائیں تو ان کا کہنا تھا کہ بزدار نہ صرف نا اہل شخص ہیں بلکہ اپنے اہل خانہ اور فرح خان کے شوہر احسن گجر کے ساتھ مل کر شریک ہیں۔ احسن گجر بشریٰ بی بی کے ساتھی یہ بات ختم نہیں ہوتی۔ باجوہ نے سارا عمران خان سے کہا کہ یہ نتیجہ آخر میں چلا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف نے دونوں خواتین کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پلیز سے مت کہو کہ آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

عمران نے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ جب ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے جنرل عاصم نے یہ معلومات بیان کرتے ہوئے عمران خان کے ساتھ بات کی تو انہوں نے جنرل باجوہ سے کہا۔

پہلے تو یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ مل کر عمران خان سے ملاقات کریں گے تاکہ انہیں معافی کی درخواست کی جائے اور دونوں کو کاروبار کے ذریعے ایک بڑی شخصیت سے دور رکھیں۔

اسی دوران جنرل باجوہ ایک پر گئے اور اس کے بعد جنرل عاصم نے اکیلے ہی یہ معلومات عمران خان کے ساتھ شیئر کیں۔ اس پر عمران خان سیخ پا اور جنرل باجوہ کی واپسی پر انہیں شک گزرا۔

انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ جنرل عاصم کو بہت قیمت سے ہٹا دیں گے اور 8 ماہ کے بعد جنرل عاصم کو بھیا جی آئی ایس نے خود کو ہٹا دیا۔

حالت یہ تھی کہ ختم کرنے سے انہوں نے تعطیلاتی دن ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا اور اتوار کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہے۔ اپنے معاملات کو درست کرنے کی عمران خان کاصرار کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین کو فوج کی گرفتاری میں کردار ادا کرنا ہے اور وہ اکثر و بیشتر جنرل پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply