0

فوج کے محافظ کسی سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں : عمران خان

لیکن تالی دونوں قوتوں سے بجتی ہے، اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کرنا چاہیے: سابق فوٹو: فائل
لیکن تالی دونوں قوتوں سے بجتی ہے، اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کرنا چاہیے: سابق فوٹو: فائل

پاکستان کے سربراہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف سے کوئی بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن دو لوگوں کے دل سے بجتی ہے۔

اسلام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہاں کوئی بات نہیں ہے، موجودہ صورت حال میں خدشہ سے متعلق۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے ان کے لیے فکر مند ہیں، بیٹوں کو صرف قتل نہیں بلکہ جیل جانے کا بھی خوف ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں ایک بیان میں، آرمی چیف، اسٹیبلشمنٹ سے کسی کو مزید بات کرنی ہے، لیکن تالی دو قوت سے بجتی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ یہاں کوئی بات کرنے کو نہیں، پہلے ہی سوشل میڈیا۔ اس پر خوفزدہ ہونے والے موجود ہیں، اگر آپ پڑھ رہے ہیں تو وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھی ہر صورت میں میری پارٹی کو ختم کر دیں گے، تو پھر آپ کس سے بات کریں گے؟ کا کوئی تعلق ہی نہیں، یہ بس کٹھ پتلیاں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سیاستدان کو ہر وقت کسی کے ساتھ بھی بات چیت کے لیے تیار ہونا چاہیے، رائے دینے والوں کو بات کرنے کے لیے کوئی حل نہیں کہتے ہیں، جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے بات ہے۔ کیا گیا، یہ پولیس نے آرمی نہیں کیا تھا، میں صرف آپ کو کہا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر یہ اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن میں نے کوئی تضحیک آمیز بیان نہیں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے گرفتار کرنے کا 80 فیصد حصہ ہے، بے شک میرا کوئی کیس نہیں، اس وقت پاکستان میں کوئی قانون حکمرانی نہیں ہے۔ کا قانون ہے، انہوں نے کہا کہ میری تمام سرکردہ قیادت کو نگرانی، حقیقت 10 ہزار سے زائد پی ٹی آئی آئی پورٹرز اور سرزمین اس وقت کسی الزام کے جیل میں ہیں، وہ عدالت سے ضمانت پر ہیں اور جیسے ہی جیل سے باہر نکلیں گے۔ انہیں دوبارہ حاصل کیا جاتا ہے، یہ بھی ہو رہا ہے، غیر قانونی ہے، عدالتیں آخری امید ہیں لیکن حکومت عدالت کا حکم نہیں مان رہی، جب عدالت واپس آ جائے تو حکومت کوئی پرواہ نہیں کرتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply